4 مارچ 2014 - 20:30
روس پر پابندي کے بارے ميں مغرب ميں اختلاف

جزيرہ نمائے کريميا ميں روس کي جانب سے فوج بھيجنے کے اقدام کے خلاف مغربي ملکوں کے شديد ردعمل اور روس پر پابندياں عائد کرنے کي دھمکيوں کے اعلان کے باوجود بعض خبروں ميں کہا جارہا ہے کہ روس پر پابندي عائد کرنے کے تعلق سے مغربي ملکوں ميں اختلاف پيدا ہوگيا ہے-

ابنا: جزيرہ نمائے کريميا ميں روس کي جانب سے فوج بھيجنے کے اقدام کے خلاف مغربي ملکوں کے شديد ردعمل اور روس پر پابندياں عائد کرنے کي دھمکيوں کے اعلان کے باوجود بعض خبروں ميں کہا جارہا ہے کہ روس پر پابندي عائد کرنے کے تعلق سے مغربي ملکوں ميں اختلاف پيدا ہوگيا ہے-اس سلسلے ميں برطانوي حکومت کي ايک حفيہ دستاويزعام ہوگئي ہے جس کي وجہ سے برطانوي حکومت کو سخت پريشاني کا سامنا ہے -اس دستاويز ميں يوکرين کے بحران سے برطانوي حکومت کو کس طرح نمٹنا ہوگا اس کا جائزہ ليا گيا ہے - يہ خفيہ دستاويز برطانوي وزيراعظم ڈيوڈ کيمرون کے خصوصي مشير کے پاس تھي اور ميڈيا کے کيمرہ مينوں نے اس دستاويز کي تصويريں لے لي ہيں - اس خفيہ دستاويز ميں کہا گيا ہے کہ موجودہ صورتحال ميں برطانيہ کو روس کے حلاف مجوزہ تجارتي پابنديوں کي حمايت نہيں کرني چاہئے اور  لندن کے مالي مرکز کو  روس کے لئے اپنے دروازے بند کرنے سے گريز کرنا چاہئے  -  يورپ کے بعض ديگر ملکوں نے بھي روس کے خلاف ممکنہ تجارتي اقتصادي پابنديوں کي مخالفت کي  ہے -  چنانچہ ليتھوينيا کے وزيراعظم نے اعلان کيا ہے کہ وہ روس کےخلاف مغرب کي طرف سے پابنديوں کي مجوزہ درخواست کے خلاف ہيں -   اس کے باوجود يورپي يونين کے ملکوں کےوزرائے خارجہ نے اپنے ہنگامي اجلاس کے بعد ماسکو کو دھمکي دي ہے کہ اس کے خلاف پابندياں عائد کي جاسکتي ہيں- يورپي يونين نے روس سے کہا ہے کہ وہ جمعرات چھے مارچ تک اپني فوج کريميا  ميں فوجي بيرکوں ميں واپس بلالے –اسي طرح يورپي يونين اور اس يونين کے ان ملکوں نے جو گروپ آٹھ کے ممبر ہيں روس کے شہر سوچي ميں جي ايٹ کے ابتدائي اجلاس کے بائيکاٹ کا اعلان کيا ہے-يورپي يونين کے  بيان ميں کہا گيا ہے کہ اگر روس نے کشيدگي کو کم کرنے کےسلسلے ميں قدم نہيں اٹھايا تو پھر اس کے خلاف مزيد اقدامات کئے جاسکتے ہيں - يورپي يونين کےوزرائےخارجہ نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ اگر روسي فوجيں کريميا ميں اپنے  بيرکوں ميں واپس نہ گئيں تواس صورت ميں جمعرات کو يورپي يونين کے اجلاس ميں روسي شہريوں کے لئے يورپي ملکوں کے ويزے ميں دي جاني والي سہولتيں معطل کردي جائيں گي –دوسري جانب روس نے امريکا کي يکطرفہ پابنديوں کي دھمکيوں کي مذمت کي ہے  -روسي وزارت خارجہ نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ اگر امريکا کي طرف سے روس پر يکطرفہ پابندياں مسلط کي گئيں تو امريکا کے اس غيرذمہ دارانہ ا قدام کا روس بھي جواب دےگا - روسي وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ يکطرفہ پابندياں مہذب حکومتوں کے تعلقات کے معياروں کے منافي ہيں –  روسي صدر ولاديميرپوتين کے مشير سرگئي گلازيف نے بھي واشنگٹن کو خبردار کيا ہے کہ اگر روس کے خلاف يک طرفہ پابندياں عائد کي گئيں تو اس سے امريکا کے مالي نظام کو نقصان پہنچے گا –روس ان ملکوں ميں سے ايک ہے جن کے پاس امريکي وزارت خزانہ کے سب سے زيادہ کريڈٹ بانڈ ہيں -......./169